یہی وہ قصیدۂ معراج ہے جو اُردو شاعری کا تاج ہے۔ اس کا لکھنے کا واقعہ بھی معراج شریف کی طرح حیرت انگیز طور پر انتہائی قلیل وقت میں ہُوا۔ ہُوا اس طرح کہ مشہور نعت گو شاعر "حضرت محسن کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ" نے معراج شریف پر ایک قصیدہ لکھا اور سیدی اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ کو سُنانے کے لیے حاضر ِخدمت ہوۓ جس کا مطلع یہ تھا، سمت کاشی سے چلا جانب ستھرا بادل،،،، برق کے کاندھے پہ لائی ہے صباگنگا جل۔ نمازِ ظہر کے بعد کی نشست تھی محسن صاحب نے ابھی کچھ اشعار ہی سُناۓ تھے کہ وقتِ عصر ہو گیا جس پر بقیہ قصیدہ بعد میں سُنانے کا طے ہُوا، بعد از نماز سیدی اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ نے اتنے قلیل وقت میں قصیدۂ معراج کے بارے میں جو اشعار ترتیب دیٔے تھے جب سُنانا شروع کیے تو محسن کاکوروی صاحب نے سُن کراپنا قصیدہ واپس لیا اورعرض کی حضرت اس سے زیادہ جامع اور اعلٰی قصیدہ کویٔ کیا لکھے گا۔ اتنے اشعار لکھ کر سیدی اعلٰی حضرت اپنے آقا و مولا حضورِ پُرنُور ﷺ کی بارگاہ میں درخواست کرتے ہیں کہ، ثناۓ سرکار ﷺ ہے وظیفہ قبول سرکار ہے تمنا نہ شاعری کی ہوس نہ پروا ردی تھی کیا کیسے قافیے تھے۔ آئیے اس کے ذریعے سے...
وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میں حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں جو بیٹھا ہے صفِ ماتم بچھائے مرگِ ظلمت پر وہ نوحہ گر ہے خطرے میں، وہ دانشور ہے خطرے میں اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے نہ تیرا گھر ہے خطرے میں، نہ میرا گھر ہے خطرے میں جہاں اقبالؔ بھی نذرِ خطِ تنسیخ ہو جالبؔ وہاں تجھ کو شکایت ہے، تیرا جوہر ہے خطرے میں